Posts

  قربانی کی کھالیں اور بچپن کی غلط فہمی عید الفطر کے ختم ہوتے ہی عیدالاضحٰی کی تیاری شروع ہوجاتی ہے کوئی   قربانی کے لئے جانور خریدنے کے لئے پیسے جوڑنے لگتا ہے تو کوئی قربان ہوئے جانور کو ظالم دنیا سے محفوظ رکھنے کے لئے فریزر کے دام پوچھتا پھرتا ہے ۔ بچے بچیاں اپنے نئے کپڑوں اور جوتوں کے خواب بُننے لگتے ہیں ۔ اور موسمی قصائی بھی اپنے چھڑی چاقو صندوقوں سے نکالنے لگتے ہیں ۔ مہنگائی   کہیں یا بے حسی میں اضافہ کہ اب فریزر کی پریشانی صرف ان لوگوں کو ہوتی ہے جو قربانی کرتے ہیں ۔ ورنہ پہلے یہ معاملہ تھا کہ جو قربانی نہیں کرتے تھے ان کو بھی دوستوں رشتہ داروں کی طرف سے اتنا گوشت آجاتاتھا کہ انہیں سنبھالنا مشکل پڑ جاتا تھا مگر آج کل گوشت بھیجنے کا معاملے بھی شادی میں دیے لفافے جیسا ہو گیا ہے ۔ جو لفافہ دےجائے اس کی شادی میں ہی لفافہ دینا ہے بس ! عید قربان میں ایک اہم مقام قربان ہونے والے جانور کی کھال بھی ہوتی ہے ۔ یہ کھال یا اس کی اس کو بیچ کر حاصل کی گئی رقم کسی بھی مستحق کو دی جا سکتی ہے ۔ معلوم نہیں کیسے اور کب۔ کھالیں مدرسوں و فلاحی انجمنوں کودینے کا رواج شروع ہوا پھر ان کی ...